www.real-islam.org www.real-islam.org www.real-islam.org
www.real-islam.org In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful
www.real-islam.org In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful
Important Quranic references
اگر آپ اس صفحے کے مندرجات کو بہتر طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے کمپیوٹر پرجمیل نوری نستعلیق (Jameel Noori Nastaleeq) فانٹ نصب کر لیں۔ شکریہ
2:8
2:12
آدم کا زمین پر پیدا کرنے کا ارادہ نہ کہ آسمان پر ۔ (انکا جواب جو کہتے ہیں کہ اگر آدمؑ  جسم سمیت آسمان سے آسکتے ہیں تو عیسیؑ کیوں نہیں )
2:31
2:55
2:107
2:115
اس دن  کوئی دوسرے کے کام نہیں آئے گا (ہر ایک کو حق کی تحقیق کرنی چا ہیئے اور آنکھیں بند کر کے ملا  یا آبا اجداد کی اتباع نہ کرنی چاہیئے۔)
2:124
قد خلت کا استعمال ایک امت کیلئے جو گزر چکی۔ (عربی میں قد خلت اور اردو میں صرف گزر جانا  (یعنی کسی تصریح کے بغیر) صرف اور صرف دنیا سے گزر جانے کے معنی رکھتا ہے)۔   مزید دیکھیں  2:142
2:135
انبیا میں فرق نہ کرنا۔  (اگرچہ روحانی لحاظ سے انبیا کے مدارج جدا جدا ہیں مگر مامور من اللہ ہونے کی اعتبار سے ان میں فرق کرنے کی قرآن اجازت نہیں دیتا۔ تو پھر  اسی سیاق و سباق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عبارت کہ  [جوشخص  مجھ میں اور مصطفی  صلی اللہ علیہ وسلم میں تفریق کرتا ہے اس نے  مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا ] کیونکر قابل اعتراض ہوئی؟  جہاں تک حضرت مسیح موعود  کی نظر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے  بلند مقام کا تعلق ہے تو اسے جاننے کیلئے   [ کلک کریں]  مزید دیکھیں  2:286 ، 3:85اور 4:153
2:137
تحویل قبلہ (انبیا بھی رائج الوقت عقائد و اعمال میں الہٰی حکم کے تا بع تبدیلی فرماتے ہیں۔ تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حیات ِ مسیح کے  رائج الوقت عقیدے سے اللہ کے حکم کے تابع رجوع کیونکر قابلِ اعتراض ہوا؟)
2:143
2:157
آباؤ اجداد کی پیروی (جیسا کہ اکثر غیر احمدی بھی اصرار کرتے ہیں)
2:171
نبی کی آمد سے پہلے لو گ اختلافا ت کے با وجود ایک امت کہلاتے ہیں  (جیسا کہ ہزار ہا اختلافات کے باوجود آج 72 فرقے احمدیت کی مخالفت میں گویا ایک  گروہ ہو جاتے ہیں)
2:214
2:254
دین میں کوئی جبر نہیں  (مگر ملا کے 72 فرقے دین کے نام پر بد ترین جبر و اکراہ  کا کھلے عام پرچار کرتے ہیں)۔  [ثبوت کیلئے دیکھیں ] [1]  اور [2]
2:257
2:260-261
محکم اور متشابہ آیات کا ذکر (ایسی تمام آیات جنکا ظاہری مفہوم قرآن میں تضاد پیدا کرے وہ دراصل متشابہ ہیں کیو نکہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں  دیکھیں4:83)
3:8
3:37
3:47
3:50
اے عیسی ؑ میں تجھے وفات دو نگا ، تیرا  رفع کرونگا،  تجھے پاک کرونگا اورتیرے ماننے والوں کو تیرے منکرین پر قیا مت تک غلبہ دو نگا اور قیامت کے دن ان میں فیصلہ کر دونگا  جس میں وہ اختلاف کرتے تھے ۔ ( یہ ۴ وعدے اسی ترتیب میں پورے ہوئے۔ ۱:وفات ۲: درجات کی بلندی، یعنی آپکی وفات کے بعد دھیرے دھیرے آپ کے ماننے والے بڑھے اور آپکی عزت اور وقار قائم ہوا۔  ۳: پاک کیا جانا، یعنی قرآن کے زریعے ان الزامات کا رد ہوا جو یہودی عائد کرتے تھے۔ ۴: منکرین یعنی یہودیوں پر غلبہ، جیسا کہ اسلام کے آنے کے بعد عیسائیت تعداد اور غلبہ میں یہود پر واضح برتری حاصل کر گئی ۔
3:56
3:76
تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کیلئے نکالی گئی ہو۔   (غیروں کی طرف سے اعتراف کہ جماعت احمدیہ بنی نوع انسان کی خدمت کے کاموں میں پیش پیش ہے)۔  [ثبوت کیلئے کلک کریں]
3:111
3:145
3:185
3:186
تو فنامع الا برار  ( مع بمعنہ من ، نیز توفی اور مع کے معنی کا تعین) [یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ (مع )یعنی (ساتھ)  کا لفط جہاں فضیلت کا مضمون ہو وہاں  (من)  یعنی  ( میں سے)   کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔  اسی لئے اس آیت کی متفقہ تفہیم یہ ہے کہ اے اللہ ہمیں اس حال میں وفات دے کہ ہم نیکوکاروں میں سے ہوں نہ کہ  یہ کہ جب کوئی نیکوکار فوت ہو تو ہمیں بھی اسکے ساتھ وفات دے دے۔ ] [پس  4:70  جو کہ فضیلت کا مضمون ہے وہاں بھی اسی اصول کے تحت   مع  کے معنی   من (یعنی میں سے) ہونگے]
3:194
4:2
4:59
4:60
جو اطاعت کرے اللہ کی اور اس  رسول کی، اسکے لئے انعامات بشمول نبوت کا انعام  [مزید دیکھیں    3:194   اور 4:147 کہ جہاں  مع  (یعنی ساتھ) کا لفظ فضیلت کے مقام پر من (یعنی میں سے) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے]
4:70
اگر قرآن اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو ا س میں ضرور تضاد ہوتا  (چونکہ قرآن کریم میں کوئی تضاد نہیں اسلئے ثابت ہوا کہ مولویوں کی وہ تفہیم جو قرآن میں بظاہر تضاد پیدا کرتیں ہیں دراصل باطل ہیں۔ [مثال کیلئے  ذیل میں دیکھیں  16:21اور 16:22  وغیرہ]
4:83
4:138
4:141
مع   یعنی  ساتھ بمعنی من  یعنی میں سےکی مثال،  مع المومنین [یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ (مع )یعنی (ساتھ)  کا لفط جہاں فضیلت کا مضمون ہو وہاں  (من)  یعنی  ( میں سے)   کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔] [پس  4:70  جو کہ فضیلت کا مضمون ہے وہاں بھی اسی اصول کے تحت   مع  کے معنی   من (یعنی میں سے) ہونگے] 
4:147
یہو د کے بارے میں کہ کم ہی ایمان لائیں گے۔ مگر غیر احمدیوں کے مطابق تمام یہود عیسیؑ کی دوسری آمد پر ایمان لے آیئں گے۔
4:156
4:158-159
عیسیؑ   اہل کتاب  پر قیا مت کے دن گواہ ہونگے  نہ کہ اس دنیا میں۔ (سورۃ المائدہ آیت ۱۱۸ میں ہے کہ عیسی ؑ  توفی سے پہلے اہل کتاب پر گواہ رہےاور اس آیت میں ہے کہ اب آپ قیامت کے دن ہی ان پر گواہ ہونگے۔ پس عیسیؑ  کی گواہی ایک تو وہ ہے کہ جب آپ بنی اسرایئل میں مبعوث ہوئے اور دوسری گواہی قیامت کے دن کی ہے) 
4:160
5:4
5:49
5:70
5:76
5:105
حواریوں پر وحی  مزید دیکھیں  16:69 اور20:39 
5:112
جب کہے گا اللہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو۔۔۔۔۔ تا آیت  ۱۲۰۔  یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ عیسی ؑ کبھی دنیا میں واپس نہیں آئنگے۔  عیسی ؑ  کا ایک بار توفی کے بعد قیامت تک اپنے ماننے والوں کے حالات سے نا واقفیت کا اظہار
5:117
دو ادوار کا ذکر ایک توفی سے پہلے جبکہ عیسیؑ نگراں تھے اپنے ماننے والوں پر اور دوسرا قیا مت (پہلی توفی کے بعد قیا مت تک اپنے ما ننے والوں کے عقا ئد سے لا علمی کا اظہار)  [استدلال کیلئے  کلک کریں]
5:118
6:104
6:112
6:130
اے جنوں اور انس کے گروہ کیا تمھارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے ؟  (اگر جن الگ مخلوق ہے تو کون کون سے رسول جنوں میں سے تھے؟)
6:131
7:27
اے بنی آدم جب کبھی تم میں رسول آئیں تم ہی میں سے۔  ( مستقبل میں رسول آنے کا ذکر، تمہی میں سے نہ کہ آسمان سے اڑتے ہوئے)
7:36
7:43
جب کوئی برائی پہنچتی تو وہ اسے موسیٰ اور انکے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔  (آج بھی ملا آفات کی وجہ احمدیوں کو ختم نہ کر سکنا بتاتے ہیں)
7:132
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو رات  و انجیل میں پیشگو ئیوں کا حوالہ  ۔ (اگر تورات اور انجیل کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا  تو قرآن ایسا کیوں کرتا؟)
7:158
7:177
جا ہلوں سے اعراض کریں ۔ (جہاں جاہلانہ رویہ دیکھیں وہاں تبلیغ پر وقت ضائع نہ کیا جائے)
7:200
اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں بلائیں تاکہ تمہیں زندہ کریں۔  (نبی کے زندہ کرنے سے مراد روحانی زندگی دینا، نہ کہ جسمانی)
8:25
ہلاک وہ جو دلیل سے ہلاک ہوجائے۔ (پس مسیح نے بھی دجال کو دلیل سے ہلاک کرنا تھا۔ آپ نے دجال کے جھوٹے خدا کی وفات ثابت کرکے گویااسے ہلاک کردیا۔  ایسی حقیقت  کہ احمدیت کے دشمن بھی اقرار کرنے پر مجبور) [ ثبوت کےلئے کلک کریں ]
8:43
بد ترین جانور،  ایمان نہ لانے والے۔   مزید دیکھیں،  5:61،  7:180،  7:177،   8:23،  62:6، 68:11،  68:14۔  (انکا جواب جو الزام لگاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے  سخت زبان استعمال کی جبکہ کسی اور نبی نے ایسا نہ کیا)۔  استدلال کیلئے  [مزید دیکھیں]
8:56
انکے ہر (فرقہ) میں سے ایک گروہ نکل کھڑا ہو (لفظ فرقہ ہمیشہ منفی معنی نہیں رکھتا)  [انکا جواب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنی جماعت کیلئے لفظ فرقہ استعمال کرے پر اعتراض کرتے ہیں]
9:122
9:125
میں اس (رسالت) سے پہلے بھی تمہارے درمیان ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں، تو کیا تم عقل نہیں کرتے؟  (مامورین کی دعوے سے پہلے کی صالح زندگی کا مخالفین کی طرف سے اعتراف انکی صداقت کا میعار۔ شدید ترین احمدی مخالف ملا بھی اسی میعار کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کا اقرار کرنے پر مجبور)۔  [ ثبوت کیلئے دیکھیں]
10:17
10:18
اللہ ہی ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے اور اسے دہراتا ہے۔ (عدم سے پیدا کرنا اور پھر مردہ ہونے کے بعد زندہ کرنا، صرف اللہ کا کام۔ اگر عیسی ؑ  بھی یہ کام کرتے تھے تو کیا نعوذباللہ اللہ نہ ہوئے؟ قابلِ غور)
10:35
11:18
11:19
11:36
نوحؑ  کا بیٹے کے متعلق سوال، اور اگلی آیت میں اللہ کا فرمانا کہ وہ تیرے اہل سے نہیں کیونکہ وہ غیر صالح ہے۔ ( ثابت ہوا کہ نبی کی آل عمل صالح والے ہی ہوتے ہیں، نہ کہ محض جسمانی اولاد) 
11:46
12:111
12:112
15:10
15:12
ہر شے خا ص مقدار میں نا زل کرنا ۔  (اگر نازل  ہونے سے مراد آسمان سے اڑتے ہوئے آنا ہے، تو کیا ہر شے اسی طرح نازل ہوتی ہے؟)
15:22
گلے سڑے  کیچڑ اور ٹھیکریوں سے انسانی پیدائش (یعنی انسانی پیدائش مختلف مراحل سے گزری نہ کہ یکدم پتلا بنا دیا گیا)  Evolution یعنی ارتقاء کی تفصیل کے لئے دیکھیں  [1]  اور  [2]
15:27
16:21-22
شہد کی مکھی پر وحی   مزید دیکھیں  5:112،  20:39
16:69
جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیا کرتے ،    ( ڈاکٹر اسرار تسلیم کرتے ہیں کہ آج مسلمان، خصوصا پاکستان اللہ کے عذاب کے نیچے ہے)۔ [ثبوت کیلئے دیکھیں]
17:16
جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ دوسرے جہاں میں بھی اندھا ہوگا۔  (کیا غیر احمدی اس آیت کو بھی لفظاً    لیں گے کیونکہ وہ لفظی معنوں پر بہت زور دیتے ہیں؟)
17:73
آسمان پر چڑھیں اور کتاب لائیں۔  ۔۔کہہ دیں کہ میں تو صرف ایک رسول ہوں ۔ (اگر جسم سمیت آسمان پر جانا انسان کےلئے ممکن ہے تو پھر کفار کے اس مطالبہ پراللہ نے کیوں فرمایا کہ اے رسول کہہ دیں کہ میں تو صرف ایک رسول ہوں؟)
17:94
پس کیا تُو شدتِ غم کے باعث اُن  کیلئے  اپنی جان کو ہلاک کردے گا  کہ  وہ ایمان نہیں  لاتے  (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بنی نوع انسان سے محبت کہ انکے غم میں گویا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ اور دوسری طرف ملا کی ایمان نہ لانے والوں کیلئے  نفرت اور انکے لیئےقتل کی تعلیم)
18:07
18:30
18:110
ادریسؑ   کا اونچے مقام پر اٹھائے جانا ۔ (کیا وہ بھی جسم سمیت اٹھائے گئے،رفع کے معنی؟) مزید دیکھیں  7:177
19:58
20:39
انبیا کا جسم  بھی ایسا نہ تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں۔ (تو پھر عیسیؑ دو ہزارسال سے کھائے بغیر کیسے جسم سمیت زندہ ہیں؟ بحوالہ 5:76)
21:09
21:35
انسا ن جلد بازی کے خمیر سے پیدا کیا گیا ہے۔   (کسی چیز سے پیدا کرنے کا مطلب کہ اس چیز کے خواص فطرت میں رکھے گئے ہیں۔ چنانچہ  جنوں کوآگ سے پیدا کرنے کا مطلب ایسے  انسان بھی ہیں کہ جن کی فطرت آگ کی طرح بھڑکیلی ہو) 
21:38
بتو ں سے پو چھ لو اگر وہ بو ل سکتے ہیں۔  (قرآن پاک کی دلیل کہ جو بولے نہ وہ معبود نہیں ہو سکتا۔ اکثر غیر احمدیوں کا اللہ اب نہیں بولتا)
21:64
انبیا کا امام ہو نا اور مہدی ہو نا۔  [یعنی ہدا یت اللہ سے پا کر آگے پہنچانے والا  امام ہونا ۔  قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق ایسا امام جو اللہ سے ہدایت لیکر آگے پہنچائے  (یعنی امام مہدی ہو)وہ نبی ہے]
21:74
21:108
22:26
22:38
دینی قتال کی اجا زت کی شرائط (کیا آج یہ شرائط موجود ہیں ۔ اگر نہیں تو پھر دین کے نام پر فساد کیونکر؟)
22:40-41
کفار قیامت تک سچا ئی کے بارے میں شک میں رہیں گے۔ ( اس عقیدے کا رد کہ میسح کی آمد ثانی پرتمام دنیا ایمان لے آیئگی)    [لاجواب استدلال کیلئے دیکھیں]
22:56
23:45
ہم نے عیسیؑ  اور اسکی ماں کو  نشان بنایا اور انہیں ایسی جگہ پناہ دی جو شاداب پہاڑی تھی اور جہاں چشمے بہتے تھے۔ (عیسیؑ کی صلیب  جیسی مصیبت سے معجزانہ نجات اور کشمیر جیسی پر فضا مقام پر پناہ پانے کا ذکر) ۔ صلیب سے نجات، دلائل کیلئے دیکھیں  [1]   اور   [2]
23:51
رسول کہے گا کہ میری قوم  نےقرآن کو  متروک کر چھوڑا  ہے۔ (اس حدیث کی طرف اشارہ کہ جس میں مذکور ہے کہ ایک وقت آیئگا کہ جب اسلام صرف نام کا رہ جایئگا اور قرآن کے صرف الفاظ رہ جایئں گے ) [دیکھیں ڈاکٹر اسرار کا اعتراف کہ وہ وقت آچکا ہے]
25:31
دلیل لا ؤ اگر تم سچے ہو ۔   (غیر مسلموں کو دلیل کے ذریعے اپنے دین کی صداقت ثابت کرنے کی دعوت، نہ کہ انکی تبلیغ  پر پابندی)
27:65
ابراہیمؑ   کا فرمانا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہو ں ۔  (اللہ کی طرف جانا یا ہجرت کرنا کن معنوں میں؟)
29:27
29:70
30:31
35:25
35:44
36:31
سورج چاند اور زمین رفتار نہیں بدل سکتے۔   (انکا  رد جو آخری زمانے میں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی حدیث کو لفظاً  لیتے ہیں)
36:41
جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اسکو  جبلّی طاقتوں کے لحاظ سے کم کرتے چلے جاتے ہیں، پس کیا وہ عقل نہیں کرتے؟   ( عیسی ؑ اگر دو ہزار سال کی عمر میں دنیا میں آیئنگے تو کن جبلی طاقتوں کے ساتھ؟ کیا یہ غیر احمدی قرآن  کریم کے توجہ دلانے کے باوجود عقل نہیں کرتے؟)
36:69
37:100
انعام یعنی چوپائے نازل ہونا۔  (نزول کن معنوں میں؟)  مزید دیکھیں 7:27، 15:22 اور  40:14
39:7
39:33
39:37
رزق نازل ہونا۔   (نزول کن معنوں میں؟)  مزید دیکھیں  7:27،  15:22 اور  39:7
40:14
اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سگے گا۔  (جو اللہ کی طرف سے مامور ہونے کا دعویٰ کرے اسکی دشمنی کے بجائے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے)
40:29
حضرت یو سف کے بعد کہا گیا کہ اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔  (رسالت کے خاتمہ کا نظریہ کوئی نیا نہیں، دوسرا اس آیت میں اس عقیدے کا رد ہے کہ رسول وہ ہے جو کتاب لائے کیونکہ اس آیت میں حضرت یوسف ؑ کو رسول کہا گیا ہے جبکہ غیر احمدی مانتے ہیں کہ وہ کوئی کتاب یعنی شریعت نہ لائے تھے)
40:35
41:31
تجھے وہی کچھ کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے رسولوں  کو کہا گیا۔  (گویا ہر نبی پر جھوٹے الزامات کی بارش کی جاتی ہے)
41:44
کوئی بھی اللہ کے مثل نہیں۔   (بے مثل صرف اللہ ہے، مگر عیسیؑ   کو کئی اعتبار سے بے مثل مانا جاتا ہے۔ مثلاً پیدا کرنا، مردے زندہ کرنا، جسم سمیت اٹھائے جانا اور اب تک فوت نہ ہونا)
42:12
43:08
آباؤاجداد کے مسلک پر چلنے کی ضد۔    (جیسا کہ آجکل کے غیر احمدی ضد کرتے ہیں )
43:23
43:33
43:53
اللہ کے  بعد کو ن ہدا یت دے سکتا ہے ۔    (بعد بمعنی چھوڑ کر، اسکے خلاف۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی نہ ہونے کا مطلب ایسا نبی نہ آسکنا جو آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر یعنی آپکے خلاف شریعت پر ہو)
45:24
اگر میں نے یہ افترا کیا ہوتا تم اللہ کے مقابل مجھے بچا نے کی طا قت نہ رکھتے۔  (جھوٹے دعوےدار کو دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی، مگر ملا کہتا ہے کہ مرزا صاحبؑ انگریزوں کی وجہ سے بچ گئے ورنہ نعوذباللہ نیست و نابود کر دیئے جاتے۔)
46:9
46:11
یقیناً وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ہے جو اُن کے ہاتھ پر ہے۔ (غلامی اور اطاعت میں اگر انحضرت کا اللہ کا مظہر ہوجانا  جائے اعتراض نہیں تو غلامی اور اطاعت میں حضرت مسیح موعود ؑ  کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہربن جانا کیونکر جائے اعتراض ہوا؟)
48:11
اعراب کہتے ہیں کہ ایمان لائے حالانکہ ایمان انکے دلوں میں داخل تک نہیں ہو ا ، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے یعنی مسلمان ہوئے۔ (ایمان دلوں میں داخل نہ ہونے کے باوجود، مسلمان کہلوانے کے حقدار۔ تو پھر ملا کسی کے مسلمان کہلوانے کے حق کو کیونکر چھین سکتا ہے؟)  [ڈاکٹر اسرار احمد اقرار کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے مطابق اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والے کو غیر مسلم نہیں کہہ سکتے۔   [ثبوت کیلئے دیکھیں]
49:15
اللہ تعالیٰ انسان کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب۔  (تو پھر عیسی ؑ نے جسمانی طور پراللہ کی طرف جانے کیلئے کس رخ سفر اختیار کیا)
50:17
اللہ کی طرف دوڑو۔     (کیا اللہ کی طرف دوڑنا، یا اٹھائے جانا لفظاً  ممکن ہے؟۔ اگر ہاں تو مولوی بتایئں کہ وہ اس آیت کی تعمیل میں اللہ کی طرف کس سمت بھاگتے ہیں؟)
51:51
انبیا کو پاگل کہنا  مخالفین کا معمول ۔    (حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف اس قسم کے تمسخر مخالفین انبیا کی کوئی نئی بات نہیں) 
51:53
51:57
52:11
دلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بیان نہیں کیا جو کچھ اس نے دیکھا۔ (معراج میں دل نے دیکھا نہ کہ آنکھ نے، یعنی معراج روحانی تھا نہ کہ جسمانی)
53:12
لو ہا نا زل کیا۔    (لباس، چوپائے، ہر شے اور اب لوہا بھی نازل کیا گیا۔ نزول کن معنوں میں؟ اسی طرح عیسیؑ  کا نزول بھی لفظا ً   نہیں)
57:26
60:9
عیسیؑ کی اپنے بعد احمد نام سے  آنے والے  کی پیشگوئی۔  (اولین طور پر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ثانوی طور پر حضرت احمد قادیانی علیہ السلام پر اطلاق پاتی ہے)
61:7
واخرین منہم ۔  (آخرین میں بعثت کی پیشگوئی،  جس کی تفصیل اسی آیت کی تفسیر کے ماتحت بخاری کی حدیث  میں مذکور ہے)
62:4
62:6
63:4
مو منو ں کی مثال فرعون کی بیوی اور حضرت مریم سے۔    (حقیقی مومن ہی روحانی طور پر مریمی صفات اور کیفیات سے حصہ پاتے ہیں  ۔  انکا جواب جو حضرت مسیح موعود کے روحانی طور پر مریمی کیفیات سے گزرنے پر اعتراض کرتے ہیں)  [استدلال کیلئے کلک کریں
66:12-13
69:45-48
81:2-13
 پس  نصیحت کر۔ تُو محض ایک نصیحت کرنے والا ہے، تُو ان پر داروغہ نہیں  تو داروغہ نہیں۔   (اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم دروغہ نہیں تو ملا کس طرح ہوئے؟)
88:22-23
مو ضوعات
جبر اور شدت اور قتل مرتد 
1
دین میں کو ئی جبر نہیں  (مگر ملا کا دین جبر سے پُر)   [ثبوت کیلئے دیکھیں]
2:257
18:30
88:12-23
جو ایمان لائے پھر انکار کر ے  پھر ایمان لائے پھر کفر کرے۔ (بار با ر کفر کے با وجود دنیوی سزا نہیں)
4:138
قرآن کریم کے مطابق قابل مذمت رویّہ ۔ آج 72 فرقوں کا یہ رویّہ ہے یا نہیں؟
2
اصلاح کے نام پر فسا د ۔   ( جیسا کہ جماعت اسلامی و دیگر  ملاکرتے ہیں )
2:12
مسجدوں کو ویران کرنے والے ظالم۔  (آج احمدی مسلمانوں کی مساجد کی ویرانی کے درپے یہ ملا اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے)۔      (ملا آج مساجد کی ویرانی کے ہی درپے نہیں بلکہ وہاں سے کلمہ طیّبہ مٹانےکے درپے بھی ہیں۔)  [ثبوت کیلئے کلک کریں]
2:115
آباؤ اجداد کی پیروی ۔  (تقلید  پر زور۔ جیسا کہ غیر احمدی کہتے ہیں کہ ہم اور ہمارے اباو اجداد کیسے غلط ہو سکتے ہیں؟)
2:171
5:105
حضرت یو سف کے بعد کہا گیا کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔۔      اللہ شکوک میں مبتلا رہنے والے کو گمراہ ٹھہراتا ہے۔  (اللہ تعالیٰ اس طرز فکر کی مذمت فرماتا ہے)
40:35
آباؤ اجداد کی پیروی۔  (اندھی تقلید  پر زور)
43:23
بعثت انبیا اور عمومی انسانی رد عمل۔  کیا آج 72 فرقوں کا یہی ردِعمل ہے یا نہیں؟
3
3:185
23:45
36:31
41:44
43:8
51:53
منکرین کی نبی پر جھوٹ کی ناپاک تہمت۔  (آجکل کے منکرین بھی اپنے   آباواجداد کی اس سنت پر بڑھ چڑھ کر اور مزے لے لے کر حصہ لیتے ہیں)
54:26
جھوٹا نبی نہ کا میاب ہو سکتا ہے نہ ہی اس دنیا میں خداکی پکڑ سے بچ سکتا ہے ۔ یعنی اسکا سلسہ نیست و نابود ہو جاتا ہے
4
10:18
40:29
 اگر میں نے یہ افترا کیا ہوتا تم اللہ کے مقابل مجھے بچا نے کی طا قت نہ رکھتے   ۔  (جھوٹے دعوےدار کو دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی، مگر ملا کہتا ہے کہ مرزا صاحبؑ  انگریزوں کی وجہ سے بچ گئے ورنہ نعوذباللہ نیست و نابود کر دیئے جاتے۔)
46:9
69:45-48
کیا ا نبیا کے انکار کی وجہ دلائل و معجزات کا نہ ہونا ہے؟
5
6:112
15:15-16
امکانِ  نبوت
6
4:70
اے بنی آدم جب کبھی تم میں رسول آیئں تمہی میں سے۔  (مستقبل میں رسول آنے کا ذکر، اور وہ بھی تمہی میں سے نہ کہ آسمان سے اڑتے ہوئے)
7:35
11:18
عیسیؑ  کی اپنے بعد احمد نام سے  آنے والے  کی پیشگوئی  ۔ (اولین طور پر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ثانوی طور پر حضرت احمد قادیانی علیہ السلام پر اطلاق پاتی ہے)
61:7
وآخرین منہم۔     (آخرین میں بعثت کی پیشگوئی،  جس کی تفصیل اسی آیت کی تفسیر کے ماتحت بخاری کی حدیث  میں مذکور ہے)
62:4
سخت الفاظ کااستعمال ۔ کیا ظلم اور بد زبانی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لئے سخت زبان کے استعمال کی اجازت ہے؟ (لاجواب استدلال کیلئےمزید دیکھیں)
7
5:61
7:177
7:180
8:23
8:56
62:5
68:11
بہت سخت گیر۔ اس کے علاوہ ولدِ حرام ہے۔  (ولدالحرام کا لفظ  شریروں اورمخالین  کے لئے)
68:14
قرآنِ کریم کی اصطلاح کے مطابق اللہ کی طرف جانا کن معنوں میں ہوتا ہے؟
8
انا للہ وانا الیہ راجعون،  اللہ کے پاس جانے سے کیا مراد؟
2:157
اگر ہم چا ہتے تو اسکا رفع کرتے مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔  (اس آیت میں تمام غیر احمدی رفع کے معنی درجات کی بلندی کرتے ہیں)
7:177
17:94
ادریسؑ   کا اونچے مقام پر اٹھائے جانا۔ (کیا وہ بھی جسم سمیت اٹھائے گئے،رفع کے معنی؟)
19:58
ابراہیم ؑ   کا فرمانا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہو ں۔   (ابراہیمؑ نے کیا جسم سمیت اللہ کی طرف ہجرت کی تھی؟)
29:27
37:100
اللہ کی طرف دوڑو۔   (کیا اس حکم کے تعمیل میں مولوی آسمان کی طرف چھلانگیں لگاتے ہیں؟ اگر اللہ  آسمان پر ہے اور اللہ کی طرف جسم سمیت سفر ممکن ہے تو وہ کیوں ایسا نہیں کرتے؟)
51:51
وفات عیسیؑ
9
3:145
5:76
جب کہے گا اللہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو۔۔۔۔۔ تا آیت  ۱۲۰۔ یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ عیسی ؑ کبھی دنیا میں واپس نہیں آئینگے۔  عیسی ؑ  کا ایک بار توفی کے بعد قیامت تک اپنے ماننے والوں کے حالات سے نا واقفیت کا اظہار
5:117
دو ادوار کا ذکر ایک توفی سے پہلے جبکہ عیسیؑ نگراں تھے اپنے ماننے والوں پر اور دوسرا قیا مت (پہلی توفی کے بعد قیا مت تک اپنے ما ننے والوں کے عقا ئد سے لا علمی کا اظہار)  [استدلال کیلئے  کلک کریں]
5:118
16:21-22
انبیا کا جسم  بھی ایسا نہ تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں۔ (تو پھر عیسیؑ دو ہزارسال سے کھائے بغیر کیسے جسم سمیت زندہ ہیں؟ بحوالہ 5:76)
21:9
21:35
نزول کی حقیقت، از روئے قرآن کریم
10
7:27
ہر شے خا ص مقدار میں نا زل کرنا ۔  (اگر نازل  ہونے مراد آسمان سے اڑتے ہوئے آنا ہے، تو کیا ہر شے اسی طرح نازل ہوتی ہے؟)
15:22
انعام یعنی چوپائے نازل ہونا۔  (نزول کن معنوں میں؟) 
39:7
رزق نازل ہونا۔   (نزول کن معنوں میں؟) 
40:14
لو ہا نا زل کیا۔    (لباس، چوپائے، ہر شے اور اب لوہا بھی نازل کیا گیا۔ نزول کن معنوں میں؟ اسی طرح عیسیؑ  کا نزول بھی لفظا ً   نہیں)
57:26
www.real-islam.org Home Page Top of page Send this page to friends
Return to Urdu Section Index

www.real-islam.org - Fri. Mar 18, 2011 @392 -