www.real-islam.org www.real-islam.org www.real-islam.org
www.real-islam.org In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful
www.real-islam.org In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful In the name of Allah, the Gracious, the Ever Merciful

الیاس ستارکے مبا ہلے کی حقیقت

مو رخہ3 جو ن 1999 کو کراچی میں چند غیراز جماعت احباب کیساتھ ایک سوا ل و جوا ب کی محفل منعقد ہوئی۔ اس محفل میں جماعت احمدیہ کی طرف سے محترم مربی عثمان شاہد صاحب اور مربی عبدالرحمٰن صاحب موجود تھے۔ اس محفل میں الیاس ستار بمعہ اپنے چند ساتھیوں کے بھی موجود تھا۔ یہ سوال و جواب کی محفل کچھ تلخی کا شکار ہوئی اوربات مباہلہ تک جا پہنچی۔ مربی سلسلہ جناب محمد عثمان شاہد صاحب نے الیاس ستار کو بتایا کہ مباہلہ کا کھلا کھلا چیلنج تو جماعت احمدیہ کے خلیفہ پہلے ہی تمام اکابرین کو دے چکے ہیں۔ اس پر الیاس ستا رنے محفل میں اس مبا ہلہ کے چیلنج کو قبول کرنے کااعلان کردیا۔

 جماعت احمدیہ کے مربیان نے پہلے تو اس خیال سے کہ امام جماعت احمدیہ کی طرف سے دیئے گئے مباہلہ کےچیلنج کے مخا طب تو ایسےقومی لیڈر اور اکابرین ہیں، کہ جن کے پیچھے ایک بڑی جماعت ہو اور لوگ ان کی سرداری کو قبول کرتے ہوں، ان کے اس اعلان پرزیا دہ توجہ نہ دی، کیونکہ الیاس ستار ان شرائط کو پورا نہیں کر تے۔ مگر جب الیاس ستار نےسستی شہرت کے حصول کے غرض سے اس پر بہت زور دیا تو دونوں مربیان نے بھی اس مبا ہلہ کا فریق بننا قبو ل کر لیا۔ ثبوت کیلئے دیکھیں ۔ (Annexure “B”)

 بہر حال، الیاس ستار کی جانب سے اس مبا ہلہ کے لئے میں جو تحریر لکھی گئی اس میں انجامِ مباہلہ کے بارے میں یہ تھا کہ ’’اگرمر زا غلام احمد قادیانی غلط ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو میں دعا کرتا ہوں کہ مرزا طا ہر احمد کو ایک سال کےاندر اندر سزا دے اور ساری جما عت احمدیہ اس عرصہ یعنی ایک سا ل میں خداتعالیٰ کی سزا کا نشانہ بنے‘‘۔ ثبوت کیلئے دیکھیں (Annexure “A” Page 2 of 2)

 صرف یہی نہیں بلکہ روزنا مہ جرأت مو رخہ 11 نو مبر 1999 میں الیاس ستار نے اپنے دستخط کے ساتھ ایک اشتہار شائع کروایا جس میں اس نے لکھا ہے کہ ’’انشاءاللہ قیا مت سے پہلے یہ 34 واں جلسہ (یعنی 1999 کا جلسہ سالانہ) قادیا نیت کا آخری جلسہ ثا بت ہو گا‘‘۔ ثبوت کیلئے دیکھیں (Annexure “C”)

 گو یا الیاس ستار کو یہ زعم تھا کہ اُسکے مبا ہلے کے نتیجے میں 2000 کے جلسہ سا لانہ سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو نیست و نابود کر دیگا۔

 الیاس ستا ر، جوکہ ایک گمنام شخص ہو نے کے نا طے مباہلہ کی شرط پر پورا ہی نہیں اترتا اور جس نے محض سستی شہرت کے لئے زبردستی یہ ڈرامہ رچا یا، کیا بتاسکتا ہے کہ جون 1999سے ایک سال کے اند ر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب اور جما عت احمدیہ پراللہ تعالیٰ کی کونسی سزا نا زل ہوئی کہ جس نے جماعت احمدیہ کی ترقیات کو زوال میں تبدیل کر دیا؟ کیا اسکی نا پا ک خواہش کےمطا بق 1999 کا جلسہ جما عت احمدیہ کاآخری جلسہ ثا بت ہوا یا کہ اس کے بعد اللہ تعا لیٰ نے اِن جلسوں کوغیر معمولی برکت عطا فرما ئی، اور فرما تا جارہا ہے؟ یہاں تک کہ 1999 کے چند سال بعد ہی (یعنی ۲۰۰۶ء) میں اللہ تعا لیٰ نے جما عت کےپھیلتے ہو ئے جلسہ سالا نہ کے لئے 1999 کی نسبت کئی گناوسیع اراضی بھی جماعت کو عطا فرما دی؟

 آج الیا س ستا ر جو مباہلہ کی فتح کا باجا بجا رہا ہے، کیا بتا سکتا ہے کہ جو ن 1999 سے جون 2000 کے ایک سال کے دوران حضرت مرزا طاہر احمد صاحب اور آپکی جما عت پر اللہ تعالیٰ کاکو نسا عذا ب نازل ہوا؟ اگر الیاس ستار حضرت مرزا طا ہراحمد صاحب کی عارضی علالت کو اللہ تعالیٰ کی سزا گردانتا ہے تو کیا وہ انبیاء اور اولیاء کے بیما ر ہو جا نے کو بھی اللہ کی سزا قراردیگا؟ اگر حضرت مرزا طا ہر احمد صا حب کی علالت (نعوذ با للہ) اللہ تعا لیٰ کی طرف سے سزا تھی تو پھر آپ کوشفاء اور صحت کیوں ہوگئی تھی؟

 کیا 2000 میں 16، 2001 میں 49 اور2002 میں 46 خطبا تِ جمعہ حضرت مرزا طا ہر احمد صاحب نے خو د نہیں ارشاد فرمائے؟ کیا آپ کو علالت کے بعد معجزانہ شفاء اور صحت نہ حاصل ہو گئی تھی؟ یہا ں تک کہ وفا ت سے محض ایک دن قبل بھی خطبہ جمعہ کیا آپ نے خود ارشا د نہ فرمایا تھا؟

 اس بارے میں ایک اوراہم بات یہ ہے کہ اس مباہلہ کی پہلی شرط کے مطابق الیاس ستار نے ۱۰ جون ۱۹۸۸ کو ارشاد فرمودہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کا مباہلہ کا چیلنج بمعہ دستخط شدہ معاہدہ من وعن پاکستانی اخبارات میں شائع کروانا تھا۔ ثبوت کیلئے دیکھیں (Annexure “A” Page 1 of 2)

 کیا وہ ثابت کرسکتا ہے کہ آج تک اُس نے مرزا طاہر احمد صاحب کا ۱۹۸۸ کو ارشاد فرمودہ مباہلہ کا چیلنج پاکستانی اخبارات میں شائع کروایا؟ ہر گز نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ یہ تو الیاس ستار ہی تھا کہ جس نے مباہلہ کی پہلی ہی شرط پر عمل نہ کرکےاس مباہلہ میں عملاً اپنی شکست تسلیم کرلی تھی۔




Return to Homepage Send this page to friends Return to Homepage

http://www.real-islam.org/ - Fri Oct 28, 2011 @725